کورونا وائرس قطرکے فٹ بال مقابلے کے ملازمین کے لیے مہلک ثابت

دبئی (سی پی پی)قطری حکومت کی طرف سے کرونا وائرس کی وجہ سے متاثرہ غیرملکی لیبر کی بحالی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے جانے پردوحا کو تنقید کا سامنا ہے۔ قطری حکومت سنہ 2022ءمیں بین الاقوامی فٹ بال کلب کی میزبانی کرنے جا رہا ہے اور اس کےلیے قطر میں بڑے پیمانے پرتعمیراتی کام جاری ہے۔فٹ بال مقابلے کے حوالے سے جاری تعمیراتی منصوبوں میں کام کرنے والے غیرملکی ملازمین اور لیبر کو کرونا سے بچاﺅ کی خاطر خواہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ گذشتہ روز قطر میں فٹ بال منصوبے میں کام کرنے والا کرونا کا مریض ایک انجینیر دم توڑ گیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے قطر میں لیبر کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فٹ بال مقابلے کے تعمیراتی منصوبوں میں کام کرنے والے 1101 غیرملکی ملازمین کرونا کا شکار ہوئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وقت کی کمی کے خوف سے قطری حکومت کرونا وائرس کی وبا کے باوجود تعمیراتی منصوبوں پرکام جاری رکھے ہوئے ہے مگر تعمیراتی میدان میں کام کرنے والے غیرملکی مزدوروں اور ماہرین تعمیرات کو کسی قسم کی حفاظتی سہولیات میسر نہیں کی گئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جب سے قطر میں فٹ بال مقابلے کے لیے تعمیراتی منصوبوں پرکام شروع ہوا ہے۔ انتہائی نا مساعد حالات میں کام کرنے والے 1500 غیرملکی مزدور ہلاک ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطری حکومت غیرملکی لیبر کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتی ہے۔ گذشتہ روز کرونا کا شکار ہونے والا ایک غیرملکی 51 سالہ انجینیر بھی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی طبی مدد نہ ملنے کے باعث دم توڑ گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں